بنگلورو۔یکم مارچ(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا 15مارچ کو ریاستی لیجسلیچر میں اپنا ریکارڈ بجٹ پیش کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ جو نہ صرف سدرامیا کا ذاتی ریکارڈ ہوگا بلکہ تخمینوں کے اعتبار سے بھی اسے ایک ریکارڈ بجٹ بنانے کی پوری تیاری کی جارہی ہے۔ مختلف سرکاری محکموں سے بجٹ کے مطالبات پر بات چیت میں مصروف سدرامیا اس بار کے بجٹ کو مجموعی طور پر دو لاکھ کروڑ روپیوں کے تخمینوں سے آگے لے جانے کی سوچ رہے ہیں۔ سدرامیا کیلئے ذاتی طور پر ریاست میں بارھویں مرتبہ بجٹ پیش کرنے کا ریکارڈ موقع مل رہا ہے، تو دوسری طرف ریاست کی تاریخ میں دولاکھ کروڑ روپیوں کے حجم کا بجٹ اب تک پیش نہیں کیا گیا ہے، پچھلے دس سے اب تک سدرامیا اپنے تمام وزراء اور اعلیٰ افسران کے ساتھ ان کے قلمدانوں میں آنے والے محکموں کی مانگوں پر مسلسل تبادلۂ خیال میں مصروف رہے۔ 2015-16کے دوران سب سے بڑا 1.63 لاکھ کروڑ روپیوں کا بجٹ سدرامیا کو پیش کرنے کا موقع ملا۔اب پیش کیا جانے والا بجٹ چونکہ آنے والے اسمبلی انتخابات سے قبل غالباً آخری بجٹ ہوگا۔اسی لئے سدرامیا اس بجٹ کے ذریعہ سماج کے تمام طبقات کو مطمئن کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ اس سے پہلے ملک کی ایک اور ریاست آندھرا پردیش میں وزیراعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے دولاکھ کروڑ روپیوں کا بجٹ پیش کرنے کا امتیاز حاصل کیا ہے ،جس بعد مہاراشٹرا کے وزیراعلیٰ نے دولاکھ کروڑ کا بجٹ پیش کیا، اس اعتبار سے کرناٹک تیسری ریاست ہوگی جہاں بجٹ کے تخمینہ جات دولاکھ کروڑ سے متجاوز ہوں گے۔ بتایاجاتاہے کہ سدرامیا نے اپنے بجٹ میں خاص طور پر دیہی علاقوں پر توجہ دی ہے، نوجوانوں میں بے روزگاری کو مٹانے اور خواتین کو خود کفیل بنانے کیلئے انوکھی اسکیمیں اس بجٹ میں شامل کی گئی ہیں۔ گرام پنچایتوں کو زیادہ گرانٹ اور تمام طبقات کیلئے نئی ہاؤزنگ اسکیموں کے اعلان کیلئے بھی رہنما خطوط سرکاری محکموں کی طرف سے وضع کروائے جارہے ہیں۔ اراکین اسمبلی کے علاقائی ترقیاتی فنڈ کو سدرامیا نے حسب وعدہ دو سے تین کروڑ روپیوں تک بڑھانے پر آمادگی پہلے ہی ظاہر کردی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ بجٹ میں اس سے متعلق باضابطہ اعلان ہوجائے گا۔ غیر منصوبہ بند اخراجات کو کم کرنے کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا، جبکہ تجارتی اور صنعتی ٹیکس برقرار رکھتے ہوئے دیگر ذرائع سے آمدنی بڑھانے کی طرف توجہ دی جائے گی۔ سرکاری آمدنی میں اضافہ کیلئے محکمۂ ایکسائز کی طرف سے شراب کی نئی دکانوں کو لائسنس دینے کا سلسلہ بحال کیا جاسکتا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ زرعی بجٹ اس بار 25ہزار کروڑ روپیوں سے زیادہ کا ہوسکتاہے، جبکہ کسانوں کے قرضہ جات بھی اتنی ہی رقم کے معاف کرنے کا بجٹ میں اعلان ممکن ہے، جس کے نتیجہ میں کسانوں پر خرچ ہونے والی رقم 50 ہزار کروڑ روپیوں سے متجاوز ہوسکتی ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے ریاستی عوام سے جو 165وعدے کئے تھے ان میں سے 125 کو کانگریس نے پہلے ہی پورا کردیا ہے، کہا جارہا ہے کہ سدرامیا بقیہ وعدوں کو بھی اپنے اس بجٹ کے ذریعہ پورا کرنے کا اعلان کردیں گے۔